امریکہ میں صحت کا بیمہ – مکمل رہنمائی

امریکہ میں صحت کا بیمہ – مکمل رہنمائی

امریکہ میں قدم رکھتے ہی سب سے پہلے اور سب سے اہم کاموں میں سے ایک صحت کا بیمہ کروانا ہے۔ یہ صرف ایک مشورہ نہیں بلکہ ایک قانونی ضرورت ہے۔ 2010 میں پاس ہونے والا Affordable Care Act (ACA) جسے عام طور پر “Obamacare” کہا جاتا ہے، کے تحت زیادہ تر امریکی شہریوں اور قانونی رہائشیوں کے لیے ہیلتھ انشورنس رکھنا لازمی ہے۔ اگر آپ بیمہ کے بغیر رہتے ہیں تو آپ کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے، حالانکہ کچھ ریاستوں میں یہ قاعدہ تبدیل ہو چکا ہے۔ لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ایک چھوٹی سی بیماری یا حادثہ بھی آپ کو مالی طور پر تباہ کر سکتا ہے۔ اسی لیے اس گائیڈ میں ہم آپ کو صحت کے بیمے کی تمام اہم باتیں آسان اردو میں سمجھائیں گے۔

سب سے پہلے آپ کو ان بنیادی اصطلاحات کو سمجھنا ہوگا جو آپ کی پالیسی میں بار بار استعمال ہوں گی۔

پریمیم (Premium): یہ وہ رقم ہے جو آپ ہر ماہ اپنے انشورنس کمپنی کو دیتے ہیں۔ چاہے آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں یا نہ جائیں، یہ پے منٹ ہر ماہ کرنا ہوتا ہے۔ پریمیم عام طور پر اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کا منصوبہ کتنا وسیع ہے، آپ کی عمر، رہائش کی جگہ، اور تمباکو نوشی جیسی عادات۔ پاکستانی خاندانوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ پریمیم جتنا کم ہوگا، عام طور پر دوسرے اخراجات (جیسے ڈیڈکٹیبل) اتنے زیادہ ہوں گے۔

ڈیڈکٹیبل (Deductible): یہ وہ رقم ہے جو آپ کو ہر سال ڈاکٹر یا ہسپتال کے بلوں میں خود ادا کرنی ہوتی ہے اس سے پہلے کہ انشورنس کمپنی اپنا حصہ ادا کرے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کا ڈیڈکٹیبل $2,000 ہے اور آپ کا ہسپتال کا بل $5,000 آتا ہے، تو آپ کو پہلے $2,000 خود دینے ہوں گے۔ اس کے بعد انشورنس کمپنی باقی رقم کا کچھ حصہ ادا کرے گی۔ پاکستانی خاندانوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اگر آپ کو بار بار ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت ہے تو کم ڈیڈکٹیبل والا پلان بہتر ہوتا ہے۔

کوپے (Copay): یہ ایک مقررہ رقم ہے جو آپ ڈاکٹر کے دفتر جانے پر یا دوائی خریدنے پر ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، فیملی ڈاکٹر کے پاس جانے پر $20 اور ایمرجنسی روم جانے پر $100۔ کوپے کی رقم آپ کے پلان پر منحصر ہے۔

آؤٹ آف پاکٹ میکسیمم (Out-of-Pocket Maximum): یہ سب سے زیادہ رقم ہے جو آپ کو ایک سال میں خود ادا کرنی ہوگی۔ ایک بار جب آپ یہ رقم پوری کر لیں گے، تو انشورنس کمپنی آپ کے باقی تمام طبی اخراجات کا 100% ادا کرے گی۔ پاکستانی خاندانوں کے لیے یہ ایک بہت بڑی حفاظت ہے، خاص طور پر اگر کسی بڑی سرجری یا دائمی بیماری کا سامنا ہو۔

اب بات کرتے ہیں پلان کی اقسام کی۔ امریکہ میں آپ کو تین اہم قسم کے منصوبے ملیں گے: HMO، PPO، اور EPO۔

HMO (Health Maintenance Organization): اس پلان میں آپ کو ایک پرائمری کیئر فزیشن (PCP) منتخب کرنا ہوتا ہے جو آپ کے تمام طبی معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اگر آپ کو کسی ماہر ڈاکٹر (Specialist) سے ملنا ہے تو پہلے اپنے PCP سے ریفرل لینا ہوگا۔ اس پلان کی پریمیم عام طور پر کم ہوتی ہے لیکن آپ کو صرف اپنے نیٹ ورک کے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے پاس جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ پاکستانی خاندانوں کے لیے یہ اچھا ہو سکتا ہے اگر آپ کے پاس کوئی ایک فیملی ڈاکٹر ہو جو آپ کی پوری فیملی کا خیال رکھ سکے۔

PPO (Preferred Provider Organization): یہ پلان آپ کو زیادہ آزادی دیتا ہے۔ آپ کسی بھی ڈاکٹر یا ہسپتال کے پاس جا سکتے ہیں بغیر ریفرل کے، چاہے وہ آپ کے نیٹ ورک میں ہو یا نہ ہو۔ لیکن اگر آپ اپنے نیٹ ورک سے باہر جاتے ہیں تو آپ کو زیادہ قیمت ادا کرنی ہوگی۔ اس پلان کی پریمیم زیادہ ہوتی ہے لیکن یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو مختلف ڈاکٹروں سے رائے لینا چاہتے ہیں یا کسی خاص ماہر سے ملنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی کمیونٹی میں کچھ لوگ اپنے ہم وطن ڈاکٹروں کو ترجیح دیتے ہیں جن میں سے کچھ PPO کے نیٹ ورک میں نہیں ہو سکتے، اس لیے یہ جاننا ضروری ہے۔

EPO (Exclusive Provider Organization): یہ HMO اور PPO کے درمیان کی چیز ہے۔ اس میں آپ کو ریفرل کی ضرورت نہیں لیکن آپ صرف اپنے نیٹ ورک کے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے پاس جا سکتے ہیں۔ نیٹ ورک سے باہر جانے کی صورت میں انشورنس آپ کے بل کا کچھ حصہ بھی ادا نہیں کرے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ آپ انشورنس کہاں سے خرید سکتے ہیں؟ امریکہ میں تین اہم ذرائع ہیں۔

پہلا ذریعہ ہے آپ کی نوکری سے ملنے والا انشورنس (Employer-Sponsored Insurance)۔ اگر آپ کی کمپنی یہ سہولت فراہم کرتی ہے تو عام طور پر یہ سب سے سستا اور بہترین آپشن ہوتا ہے کیونکہ کمپنی آپ کے پریمیم کا کچھ حصہ خود ادا کرتی ہے۔ دوسرا ذریعہ ہے ہیلتھ انشورنس مارکیٹ پلیس (Health Insurance Marketplace)۔ یہ وفاقی حکومت کی ویب سائٹ ہے جہاں آپ مختلف کمپنیوں کے پلانز کا موازنہ کر سکتے ہیں۔ تیسرا ذریعہ ہے Medicaid، جو کم آمدنی والے لوگوں کے لیے ایک مفت یا بہت سستا ان

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *